نئی دہلی، 24دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پیر کو کہا کہ آگے ٹیکس آمدنی اچھااضافہ ہونے پر ملک میں مال اور سروس ٹیکس کی تین شرحیں رہ جائیں گی۔ان میں 0فی صد اور 5فیصد کی شرح کے ساتھ عام ضرورت کی اشیاء پر ایک معیاری شرح ہوگی جو 12سے 18فیصدکے درمیان ہوگا۔جیٹلی نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ لگزری اشیاء کوبڑھاکربرقراررکھا جائے گا۔ وزیرخزانہ نے فیس بک پر’ جی ایس ٹی کے 18ماہ ‘کے عنوان سے لکھے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اس وقت استعمال کی کل 1216اشیاء میں سے 183پر 0 فیصد، 308پر 5فیصد، 178مصنوعات پر 12فیصد اور 517پر 18کی شرح جی ایس ٹی لگتی ہے۔ابھی صرف آرام دہ اور لگزری مصنوعات کے علاوہ گاڑیوں کا سامان،اے سی اورسیمنٹ سمیت صرف28چیزیں ہی بچی ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس نظام میں جی ایس ٹی کی شکل میں تبدیل ہونے کے ساتھ اب ہم اس کی شرحوں کو درست کرنے کے لیے پہلے مرحلے کوپورا کرنے کے قریب ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 12فیصد اور 18فیصدکی دوشرحیں ہیں،جو مستقبل میں ایک کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وسیع پیمانے پر صرف دو چیزوں کا استعمال سیمنٹ اور گاڑی پارٹس پر ہی 28فیصد کا ٹیکس ہے،ہماری اگلی ترجیحات میں سیمنٹ کو کم ٹیکس شرح کے مرحلے میں لے جانے کی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دیگر تمام اشیاء کوپہلے ہی 28فیصد سے نکال کر 18فیصد اور 12فیصد میں رکھاجاچکا ہے۔بتادیں کہ جی ایس ٹی کونسل نے ہفتے کو 23چیزوں پر ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی تھی۔ارون جیٹلی نے کہاہے کہ جی ایس ٹی کے عمل میں ہونے سے پہلے زیادہ تر اشیاء پر 31فیصد کا ٹیکس لگ رہا تھا،لوگ صرف دو ہی آپشن تھے یا تو زیادہ ٹیکس کے پیسے ادا کریں یا پھر ٹیکس چوری ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کافی حد تک ٹیکس چوری کا بول بالا تھا۔